:
Breaking News

Delhi: سپریم کورٹ کا بڑا حکم، 20 سے 25 جولائی کے مظاہروں سے متعلق FIR منسوخ؛ مجرمانہ ریکارڈ والوں کو راحت نہیں

top-news
https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Alam Ki Khabar | Bihar News | Patna News | Samastipur News | سپریم کورٹ نے 20 سے 25 جولائی کے درمیان مظاہرین کے خلاف درج FIR منسوخ کرنے کا حکم دیا، مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والوں کو راحت نہیں ملے گی۔

Desk، 1 ستمبر۔ سپریم کورٹ نے منگل کو 20 سے 25 جولائی کے درمیان احتجاجی مظاہروں کے سلسلے میں درج تمام ایف آئی آر منسوخ کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے تاہم واضح کیا کہ ایسے مظاہرین جن کا پہلے سے مجرمانہ ریکارڈ موجود ہے، انہیں اس فیصلے کے تحت حاصل ہونے والی راحت نہیں دی جائے گی۔ عدالت کا یہ حکم ملک کی تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں درج متعلقہ مقدمات پر لاگو ہوگا۔

سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد CJP نے 5 ستمبر کو دہلی میں مجوزہ احتجاجی مارچ واپس لینے کا اعلان کیا ہے۔ تنظیم کی جانب سے کہا گیا کہ حکومت کی یقین دہانی اور عدالت کے فیصلے کے بعد مارچ واپس لینے کا فیصلہ کیا گیا۔

دہلی پولیس کی درخواست پر عدالت میں سماعت

سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ دہلی پولیس کی جانب سے دائر عبوری درخواست پر سماعت کے دوران سنایا۔ عبوری درخواست اس وقت دائر کی جاتی ہے جب کسی زیر سماعت معاملے میں کسی مخصوص مسئلے پر فوری حکم یا عبوری راحت کی ضرورت ہو۔

دہلی پولیس نے عدالت کے سامنے مؤقف رکھا کہ 25 جولائی کے سپریم کورٹ کے سابقہ حکم کے بعد CJP کے احتجاج سے متعلق 13 ایف آئی آر پر مزید کارروائی جاری رکھنے کی خواہش نہیں ہے۔ پولیس کی جانب سے ان معاملات کو ختم کرنے کے لیے عدالت سے مناسب حکم کی درخواست کی گئی تھی۔

عدالت نے معاملے کے مخصوص حالات اور دونوں فریقوں کے درمیان سامنے آئے اتفاق کو مدنظر رکھتے ہوئے ایف آئی آر منسوخ کرنے کا حکم دیا۔

آرٹیکل 142 کے تحت خصوصی اختیار کا استعمال

سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ موجودہ حکم آئین کے آرٹیکل 142 کے تحت حاصل خصوصی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے دیا جا رہا ہے۔ عدالت نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ یہ فیصلہ صرف موجودہ معاملے کے مخصوص حقائق اور حالات کی بنیاد پر ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اس حکم کو مستقبل کے دوسرے مقدمات میں لازمی نظیر یا عام اصول کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکے گا۔

عدالت نے یہ شرط بھی رکھی کہ دونوں فریق عدالت کے سامنے طے پانے والے سمجھوتے اور یقین دہانیوں کی مکمل پابندی کریں گے۔

CJP نے احتجاجی مارچ واپس لیا

سپریم کورٹ کے فیصلے کے فوراً بعد CJP نے 5 ستمبر کو دہلی میں مجوزہ احتجاجی مارچ منسوخ کرنے کا اعلان کیا۔ تنظیم کے ترجمان سورَو داس نے فیصلے کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کے ساتھ بات چیت میں تعطل کے بعد تنظیم کو خدشہ تھا کہ اس کے ساتھ کیے گئے وعدے پورے نہیں ہوں گے، اسی وجہ سے دوبارہ مارچ کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ عدالت کے تازہ حکم کے بعد ملک بھر میں متعلقہ ایف آئی آر منسوخ ہونے سے طلبہ کے لیے ایک بڑی راحت سامنے آئی ہے۔

CJP سے وابستہ ابھجیت دیپکے نے بھی عدالت کے فیصلے کو طلبہ کی کامیابی قرار دیا۔ تنظیم کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ طلبہ کے خلاف چل رہے مقدمات کے خاتمے سے ان کی ایک اہم مانگ پوری ہوئی ہے۔

20 جولائی کو مظاہرین اور سکیورٹی اہلکاروں میں جھڑپ

یہ معاملہ 20 جولائی کو دہلی میں ہونے والے احتجاج کے دوران پیش آنے والی جھڑپ کے بعد شدت اختیار کر گیا تھا۔ احتجاجی مظاہرین کی جانب سے پارلیمنٹ کی طرف بڑھنے کی کوشش کے دوران سکیورٹی اہلکاروں نے انہیں روکنے کی کوشش کی تھی۔

صورتحال قابو میں رکھنے کے لیے پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے استعمال کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ اس واقعے کے بعد مظاہروں سے متعلق متعدد مقدمات درج کیے گئے تھے۔

بعد میں طلبہ کا احتجاج دہلی سے نکل کر ملک کے مختلف شہروں تک پہنچا۔ احتجاج کے دوران کئی مطالبات سامنے آئے، جن میں اس وقت کے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ بھی شامل تھا۔

20 جون سے شروع ہوئی تھی تحریک

دستیاب تفصیلات کے مطابق طلبہ کی تحریک کا آغاز 20 جون کو دہلی کے جنتر منتر سے ہوا تھا۔ بعد کے دنوں میں احتجاج نے شدت اختیار کی اور حکومت کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ بھی جاری رہا۔

25 جولائی کو حکومت کی جانب سے تنظیم کی بعض اہم مانگوں پر پیش رفت اور دھرمیندر پردھان کے استعفے کے بعد تحریک ختم کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔

اب سپریم کورٹ کی جانب سے ایف آئی آر منسوخ کرنے کے حکم نے اس احتجاج سے جڑے قانونی معاملات کو بھی ایک نئی سمت دے دی ہے۔

CJP کے مستقبل پر ابھجیت دیپکے کا مؤقف

CJP کے بانی ابھجیت دیپکے اس وقت تنظیم کے مستقبل، کور کمیٹی کی تشکیل اور آئندہ کی سرگرمیوں کے حوالے سے مشاورت میں مصروف ہیں۔ تنظیم کے مستقبل کو لے کر اٹھنے والے سوالات کے درمیان انہوں نے واضح کیا ہے کہ فی الحال CJP کو سیاسی جماعت میں تبدیل کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

ان کے مطابق تنظیم کی ترجیح طلبہ سے متعلق مسائل اور ان کے حل کے لیے اجتماعی جدوجہد کو آگے بڑھانا ہے۔ سیاسی جماعت بنانے کے سوال پر فی الحال تنظیم نے اس امکان کو مسترد کیا ہے۔

عدالت کے فیصلے کا اہم پہلو

سپریم کورٹ کے فیصلے کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ عدالت نے مخصوص مدت کے دوران احتجاج سے متعلق درج ایف آئی آر کو منسوخ کرنے کی ہدایت دی ہے، لیکن ساتھ ہی مجرمانہ پس منظر رکھنے والے افراد کو اس عمومی راحت سے باہر رکھا ہے۔

اس کے علاوہ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ آرٹیکل 142 کے تحت دیا گیا موجودہ حکم اپنے مخصوص حقائق تک محدود ہے۔ اس لیے اسے دوسرے مقدمات میں خود بخود نافذ ہونے والا اصول نہیں سمجھا جا سکتا۔

فی الحال CJP نے بھی عدالت کے فیصلے کے بعد 5 ستمبر کا مجوزہ مارچ واپس لے لیا ہے۔ یوں احتجاج سے پیدا ہونے والے قانونی تنازعے میں ایک اہم مرحلہ مکمل ہوا ہے، جبکہ تنظیم کے آئندہ لائحہ عمل پر بھی اب توجہ مرکوز ہو گئی ہے۔

https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *